Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

21 November

Home

Select Date

2 Historical Event found for 21 November
1

21 نومبر 1979

ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے شہری سیلاب سے بچاؤ کا ابتدائی انفراسٹرکچر بلیو پرنٹ متعارف کرایا

ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے شہری سیلاب سے بچاؤ کا ابتدائی انفراسٹرکچر بلیو پرنٹ متعارف کرایا

21 نومبر 1979 کو ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے شہری سیلاب سے بچاؤ کے لیے ایک جامع انفراسٹرکچر بلیو پرنٹ جاری کیا، جو اُس دہائی کے مسلسل طوفانوں اور بڑھتی شہری آبادی کے دباؤ کے جواب میں تیار کیا گیا تھا۔ 1970 کی دہائی میں ٹوکیو کو بارہا سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ نکاسی کے پرانے نظام بوجھ برداشت نہیں کر پاتے تھے اور تیزی سے ہوتی کنکریٹ شدہ تعمیرات نے بارش کے قدرتی جذب کے راستے ختم کر دیے تھے۔ اس بلیو پرنٹ نے زیرزمین پانی ذخیرہ گاہوں، چوڑے دریا کناروں، کثیر سطحی ڈرینیج ٹنلز اور گرین واٹر پارکس پر مشتمل ایک مربوط نظام تجویز کیا، جسے زیادہ خطرے والے وارڈز میں تقسیم کیا جانا تھا۔ اس منصوبے میں طویل مدتی لینڈ یوز پلاننگ شامل تھی اور نئے رہائشی و صنعتی منصوبوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ قابل نفوذ فرش، بارش کے پانی جمع کرنے والے ڈھانچے، اور اوور فلو کم کرنے کے نظام اپنائیں۔

یہ پالیسی جاپان میں سائنسی بنیادوں پر خطرات کی پیش گوئی کی طرف ابتدائی قدم بھی ثابت ہوئی۔ انجینئرز نے بارش کی کمپیوٹر سمولیشن اور زمینی ساخت کے ماڈلز استعمال کرتے ہوئے خطرناک علاقوں کی نشاندہی کی، جس کے نتیجے میں پہلی بار ٹوکیو کی زوننگ پالیسی میں سیلاب سے تحفظ شامل ہوا۔ سماجی طور پر، اس منصوبے نے شہری آبادی میں آگاہی بڑھائی اور محلہ کمیٹیوں نے گھروں میں سیلاب سے بچاؤ کی تیاریوں پر تربیتی پروگرام شروع کیے۔

وقت کے ساتھ یہ بلیو پرنٹ جاپان کے بڑے سیلابی انفراسٹرکچر منصوبوں کی بنیاد بنا، جن میں 1990 کی دہائی کے جدید اسٹورم واٹر ٹنلز شامل ہیں۔ ٹوکیو کا دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شمار ہونا اسی بلیو پرنٹ کا تسلسل ہے۔

Views
8
2

21 نومبر 1987

پنجاب نے بین الاضلاعی زرعی اسٹوریج اور کولڈ چین میں بہتری کے منصوبے کی منظوری دی

پنجاب نے بین الاضلاعی زرعی اسٹوریج اور کولڈ چین میں بہتری کے منصوبے کی منظوری دی

21 نومبر 1987 کو پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بین الاضلاعی زرعی اسٹوریج اور کولڈ چین میں بہتری کے منصوبے کی منظوری دی، جو اس وقت زرعی پیداوار کے بڑھتے ہوئے حجم کے باوجود کمزور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے بھاری بعد از فصل نقصان کا سامنا کرنے والے علاقوں کے لیے نہایت اہم قرار پایا۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں اوکاڑہ، ساہیوال، رحیم یار خان اور بہاولپور جیسے اضلاع میں سبزیوں، ترشاوہ پھلوں اور چارے کی پیداوار میں تیزی آئی تھی، مگر مناسب کولڈ اسٹوریج نہ ہونے کے باعث یا تو اجناس ضائع ہوجاتیں یا پھر کسانوں کو ضرورت سے کم قیمتوں پر فروخت کرنا پڑتی تھی۔ اس نئے منصوبے نے نہری علاقوں کے ساتھ معیاری کولڈ اسٹوریج یونٹ قائم کرنے، موبائل کولنگ وینز متعارف کرانے، اور ڈسٹرکٹ سطح پر اسٹوریج کوآپریٹیوز بنانے کا خاکہ پیش کیا، تاکہ کسان فصلوں کو محفوظ رکھ سکیں اور سیزن سے باہر بہتر نرخ حاصل کرسکیں۔

یہ پالیسی مقامی کاشتکاروں، ٹرانسپورٹرز اور مارکیٹ کمیٹیوں سے کیے گئے تحقیقی سرویز کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی۔ اس میں عوام اور نجی شعبے کے مشترکہ تعاون کا ماڈل بھی شامل تھا، جس میں نجی سرمایہ کار حکومتی نگرانی میں اسٹوریج مراکز چلاتے تھے۔ اس اقدام نے پاکستان کے اندرونی زرعی سپلائی چین کو مضبوط بنایا، ٹرانسپورٹ میں ضیاع کم ہوا، کاشتکاروں کی سودے بازی کی طاقت بڑھی، اور شہری مراکز میں اجناس کی سال بھر بہتر رسد ممکن ہوئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ پنجاب کی زرعی جدیدکاری کا بنیادی ستون ثابت ہوا اور 1990 کی دہائی کی کولڈ چین پالیسیوں اور ایگرو لاجسٹک اصلاحات کے لیے بنیاد فراہم کی۔

Views
8

مزید خبریں "On This Date" سے

news
برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی ک...

مزید پڑھیں
news
ایفل ٹاور کی تکمیل نے عالمی تعمیراتی معیارات کو ازسرِ نو ترتیب دیا

1889 میں ایفل ٹاور کی تکمیل نے عالمی تعمیراتی طریقوں کو بدل دیا، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ لوہا نہ صرف مضبوط بلکہ خوبصورت عمارتوں کے لیے بھی موزوں مواد ہو سکتا ہے۔ ا...

مزید پڑھیں
news
نظامِ حیدرآباد کے سردار محل کو پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر سرکاری کنٹرول میں لے لیا گیا

24 جنوری 1965 کو حیدرآباد میں واقع تاریخی سردار محل کو جائیداد ٹیکس کے واجبات جمع نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے کر یہاں اپنے دفاتر قائم...

مزید پڑھیں
news
پاکستان میں پہلی ہاؤس بلڈنگ فنانس اسکیم کا آغاز

21 اکتوبر 1959 کو پاکستان میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کے تحت پہلی ہاؤس بلڈنگ فنانس اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد متوسط طبقے کو سبسڈ...

مزید پڑھیں
news
ماستریخت معاہدے نے متحدہ یورپی پراپرٹی مارکیٹ تشکیل دی

3 نومبر 1993 کو ماستریخت معاہدے کے نفاذ نے یورپی رئیل اسٹیٹ مارکیٹوں میں انقلاب برپا کر دیا، جس نے متحدہ پراپرٹی سرمایہ کاری زون کے لیے فریم ورک قائم کیا۔ معاہد...

مزید پڑھیں